پھر سے اک بار اسے پیار کروں یا نہ کروں

راستہ عشق کا ہموار کروں یا نہ کروں 

پھر سے اک بار اسے پیار کروں یا نہ کروں

وادیِ عشق کو میں پار کروں یا نہ کروں

عشق میں خود کو میں بیمار کروں یا نہ کروں

رسم اُلفت کو نبھانے کی سزا کیسے ملی

چشم تر سے کبھی اظہار کروں یا نہ کروں 

جن کی فطرت میں ہے شامل کہ جدا سب سے رہیں

خود کو اُن سے میں خبردار کروں یا نہ کروں

بے وفا کون تھا جن سے یہ عیاں ہو جائے

میں قلمبند وہ اشعار کروں یا نہ کروں 

کر رہی ہے وہ نظر سے ہی جگر کو زخمی

خود کو اس کے لیے بیمار کروں یا نہ کروں

عشق میں ہوتی نہیں ہے کبھی کوئی چھٹی

بے وفائی تجھے اتوار کروں یا نہ کروں

قلب ویراں میں محبت کے لگا کر پودے

بارشِ عشق سے گلزار کروں یا نہ کروں

دیکھ کر جس کو محبت کی نشانی کہہ دو

میں بھی تعمیر وہ مینار کروں یا نہ کروں  

ہجر کی شام ہے رو رو کے گزاری میں نے

وصل کی رات اسے پیار کروں یا نہ کروں

آ گئی قبر پہ میری وہ چڑھانے چادر

دوستو! اُٹھ کے میں دیدار کروں یا نہ کروں

بے وفا آج طلب گار بنی ہے شمسی

سوچتا ہوں اسے انکار کروں یا نہ کروں

شمس الحق علیمی مہراج گنج یوپی


جذبۂ عشق کو بیدارکروں یانہ کروں

Share this on

متعلقہ اشاعت

This Post Has 2 Comments

  1. جاوید احمد خان

    وااه ، بہت خُوب

جواب دیں