آ گیا آمدِ سرکار کا پیارا موسم

آ گیا آمدِ سرکار ﷺ کا پیارا موسم

آ گیا آمدِ سرکار کا پیارا موسم
غم کے ماروں کا ہے خاص سہارا موسم

غم کا بادل تھا شہا ! اور کڑکتی بجلی
تیری آمد نے ہے سرکار ﷺ نکھارا موسم

لے کے اُن کو جو بنو سعد،حلیمہ پہنچیں
اُن کے بدلا تھا وہ گھر بار کا سارا موسم

کہتی جاتی تھیں حلیمہ ، اے قبیلے والو
کیسا لایا ہے مرا راج دُلارا ، موسم

کُفروالحادکی چھائی تھیں گھٹائیی کالی
تیرے اخلاق نے آن سُدھارا موسم

بحرِ عصاں میں وہ ساحل کااشارہ دےکر
نا خُدا نے مرے ، ساحل پہ اُتارا موسم

اُن کے روضے پہ شب وروزملائک کانزول
بن کے رہتا ہے وہاں نُور کا دھارا، موسم

زندگانی کی بدل ڈالی ہے، رُت ہی اُس نے
ہم نے طیبہ میں جو اِک بار گُزارا موسم

پڑھتے رہتے ہیں شب و روز درود و سلام
گھر میں رہتا ہے تبھی یار یہ پیارا موسم

اہلِ ایمان کےچہروں کی بشاشت دیکھو
ماہ میلاد نے اندر کا سنوارا موسم

ہم گدا ہیں تو اُنہی کے،نہیں غیرسےکام
ہو مبارک تُمہیں اغیار ! تُمہارا موسم

ہم تو شاداں ہیں جلیل کہ آیا آخر
دل لُبھانے کو یہ آج ، ہمارا موسم

حافظ عبد الجلیل


 

بندوں کے لیے بھیج دے برسات کا موسم

عشق والفت کاپیار کاموسم

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں