آنکھ اگر بھول کے بھی مجھ سے ملائی ہوتی

آنکھ اگر بھول کے بھی مجھ سے ملائی ہوتی
اس کی اوقات وہیں میں نے دکھائی ہوتی

بیڑیاں پاؤں میں نفرت کے پڑی ہوتیں اگر
بات سنسد میں کسی نے بھی اٹھائی ہوتی

گھر غریبوں کے جلانے میں لگے رہتے ہو
کسی مجبور کے گھر شمع جلائی ہوتی

میں اسے ظالم و جابر نہیں کہتا یارو
شرم اس کو مگر اک بار تو آئی ہوتی

ہوتے اول ہی جہاں بھر میں معیشت میں جناب
ہاں ! حکومت جو دیانت سے چلائی ہوتی

مر گئے ہوتے سبھی ظلم و جفا کے خوگر
کوئی بجلی ہی فلک تونے گرائی ہوتی

دہر کی بات سے دل تنگ ہوا ہے استادؔ
بات دل کی بھی کبھی دل سے سنائی ہوتی

استادؔبریلوی

 

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں