آنکھوں میں دیدِ شوق بڑھا کر چلے گئے

آنکھوں میں دیدِ شوق بڑھا کر چلے گئے
جاتے ہوئے وہ اپنا بنا کر چلے گئے

کچھ اس طرح سے تیر چلا کر چلے گئے
نقشِ بتاں وہ دل سے مٹا کر چلے گئے

پتھر مزاج شخص کا دل موم ہو گیا
وہ سینے میں یوں آگ جلا کر چلے گئے

آنکھوں سے بھاپ اٹھ رہی ہے یا کہ ہے نمی
سامانِ ہستی دل کا جلا کر چلے گئے

میں اس طرح سے کھویا رہا ان کی یاد میں
میں سوچتا رہا کہ وہ آ کر چلے گئے

وحشت نے درِ عشق پے کیں سجدہ ریزیاں
کعبہ خیالِ غیر کا ڈھا کر چلے گئے

اے دنیا خوش رہے نہ رہے سادہ دل مگر
ہم آئے تھے کہ تجھ سے نبھا کر چلے گئے

زندانِ دنیا میں ہے بشر قید کس لئے
اچھے وہی ہیں لوگ جو آ کر چلے گئے

آیا ہے جو بھی دنیا میں خوش لوٹتا نہیں
کتنے ہی لوگ قصے سنا کر چلے گئے

پوچھا نہ حالِ دل کسی نے بھی حسن رضا
جتنے تھے رشتے آنسو بہا کر چلے گئے

محمد حسن رضا حسانی

Share this on

متعلقہ اشاعت

بحر موجی كا تعارف

بحر موجی كا تعارف نام: دیا شنکر تخلص: بحر موجی تاریخ ولادت: 9 ستمبر 1911 جائےولادت: داؤد گنج، ضلع ایٹہ، اتر پردیش، بھارت تعلیم: جھانسی

مزید پڑھیں

امن لکھنوی كا تعارف

امن لکھنوی كا تعارف نام: گوپی ناتھ سریواستوا تخلص: امن لکھنوی تاریخ ولادت: 16 ستمبر یا 21 اکتوبر 1898 جائےولادت: لکھنؤ، اترپردیش، بھارت تعلیم: امن

مزید پڑھیں

شاکر بریلوی كا تعارف

شاکر بریلوی كا تعارف نام: کالکا پرشاد مہروترا تخلص: شاکر بریلوی سن ولادت: 1892 جائےولادت: بریلی، اترپردیش، بھارت شاکر بریلوی کے والد منگل سین مہروترا

مزید پڑھیں

شمیم کرہلوی كا تعارف

شمیم کرہلوی كا تعارف نام: دیا شنکر سکسینہ تخلص: شمیم کرہلوی سن ولادت: 1895 جائےولادت: قصبہ دھرمنگدر پور، اترپردیش، بھارت جناب شمیم کرہلوی نے الہ آباد

مزید پڑھیں

جواب دیں