ادیب لکھنوی كا تعارف

ادیب لکھنوی كا تعارف

نام: گرسرن لال

تخلص: ادیب لکھنوی

تاریخ ولادت: 23 دسمبر 1902

جائےولادت: غوث نگر، لکھنؤ

ادیب لکھنوی کی ابتدائی تعلیم آپ کے دادا منشی گنگا پرشاد کی نگرانی میں ہوئی۔ آپ نے انٹر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، بی۔ اے۔ لکھنؤ یونیورسٹی اور فارسی میں ایم۔ اے۔ آگرہ یونیورسٹی سے کیا۔

آپ نے مولانا عزیز لکھنوی کی صحبت اختیار کی اور شاعری میں آپ ہی کی شاگردی بھی اختیار کی۔ میلاد اور دیگر مذہبی محفلوں کا شوق بھی آپ کو خوب رہا۔

تصانیف: چھلکتے جام، چھوٹے نانک، رباعیات ادیب، زنداں سے گلستاں تک اور آپ کے حمدیہ و نعتیہ کلام کا مجموعہ بنام "نذرانۂ عقیدتبھی شائع ہوا۔

نمونہ کلام:

آؤ ہم سب مل کے بیٹھیں پیار کی باتیں کریں

کچھ عرب میں پریم کے اوتار کی باتیں کریں

فخر آدم احمد مختار کی باتیں کریں

دو جہاں کے سرور و سردار کی باتیں کریں

پریم کی گنگا بہائی جس نے ریگستان میں

روح تازه پھونک دی مٹتے ہوے ایمان میں

وہ صداقت کا علم بردار وحدت کا خطیب

ظاہر و باطن کے سب انوار تھے جس کے قریب

انبیاء پر برتری کا تھا شرف جس کو نصیب

وہ خداے پاک و برتر نے کہا جس کو حبیب

دم قدم سے جس کے حق کا بول بالا ہو گیا

اور وحدت ہر طرف پھیلا اجالا ہو گیا

تھی رسول پاک سے پہلے جہالت چار سو

بھائی بھائی میں بھی تھی رسم عداوت چار سو

تھا عرب کی سرزمین پر دور ظلمت چار سو

معجزہ کس کا تھا جو پھیلی اخوت چار سو

ہر طرف آنے لگیں اللہ اکبر کی صدا

حمد خالق کی صدا نعت پیمبر کی صدا

درد تو بے انتہا تھے کوئی چارہ گر نہ تھا

دائروں پر تھی نظر دل ایک مرکز پر نہ تھا

بت کدہ تھا خانۂ کعبہ خدا کا گھر نہ تھا

تھے ہزاروں خوف، خوف داور محشر نہ تھا

آپ کو اللہ نے بھیجا ہدایت کے لیے

ہو گیا سامان امت کی شفاعت کے لیے

جانور کی طرح سمجھے جاتے تھے پہلے غلام

باتوں باتوں میں ہوا کرتی تھین تیغیں بے نیام

لڑکیوں کا قتل کر دینا بھی تھی اک رسم عام

خاندانوں میں لیا جاتا تھا صدیوں انتقام

شاعری تھی ہوش وحشت کو بڑھانے کے لیے

درس کوئی بھی نہ تھا لیکن زمانے کے لیے

خاندانوں کے الگ تھے اپنے اپنے دیوتا

ان سے بھی اکثر ہوا کرتا تھا ساماں جنگ کا

تھے خدا کے گھر میں بھی بت اور کا تو ذکر کیا

کان میں آتی نہ تھی، اللہ اکبر کی صدا

دفعتاً گونجا زمانہ نعرہ توحید سے

نا امیدی کفر ٹھہری، دل بھرے امید سے

آرز و بر آئی ابراھیم و اسمعیل کی

از سر نو دین حق کی آپ نے تشکیل کی

بت ہٹاے حکم حق کی آپ نے تعمیل کی

آخری پیغام لائے دین کی تکمیل کی

جس نے ایذا دی کیے اس پر بھی احساں آپ نے

رفتہ رفتہ کر لیا اس کو مسلماں آپ نے

آپ کا دل تھا کہ تھا آئینۂ صدق و صفا

انتہاے نور اقدس تھی کہ سایہ نور کا

اے شفیع روز محشر اے حبیب کبریا

اس جہان آب و گل میں پیکر نور خدا

جانتا ہوں میں کہ ادنی ہوں یہ کاروں میں ہوں

آپ کی چشم عنایت کے طلب گاروں میں ہوں

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

میرے سر آنکھوں پہ فرمان رسول عربی

جان و دل دونوں ہی قربان رسول عربی

مسلموں تک ہی نہیں فیض رسالت محدود

عام ہے خلق پر احسان رسول عربی

روم اعدا کا ہمیشہ ہوا ثابت باطل

رحمت حق تھی نگہبان رسول عربی

آدمی کے تو بہت ہوتے ہیں حاکم لیکن

تھے ملک تابع فرمان رسول عربی

قلب محبوب خدا، آئینۂ نور خدا

حق کا عرفان ہے عرفان رسول عربی

نام ادیب اور بس اتنا ہے تعارف میرا

ایک ادنیٰ سا ثنا خوان رسول عربی

°°°°°°°°°°°°°°°

السلام اے رہبر دنیا و دیں

السلام اے رحمۃ للعالمین

السلام اے فخر آدم السلام

السلام اے نازش روح الامیں

تیرا نقش پا چراغ حق نما

ہر سخن تفسیر قرآن مبیں

ہر قدم تیرا دلیل راہ دوست

تذکرہ تیرا حدیث دلنشیں

ہے وہ دل آئینۂ صدق و صفا

جس میں ہو تیرا تصور جاگزیں

کفر کی ظلمت مٹانے کے لیے

نور تیرا بن گیا مہر مبیں

شاد ہیں دنیا میں تیرے ذکر سے

ہے نجات آخرت کا بھی یقیں

°°°°°°°°°°°°°°°°

مکاں کیا لامکاں بھی آج تک جس سے معطر ہے

وہ بوئے زلف وحدت تھی محمد کے پسینے میں

جن و انس و ملائک کا تو آخر پوچھتا کیا ہے

ہوائیں بھی ادب کے ساتھ چلتی ہیں مدینے میں

***************

ادیب لکھنوی كا تعارف


محمد شاہد علی مصباحی كا تعارف

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں