انوارِ حسن سے ہے بہت ضوفشاں وطن

انوارِ حسن سے ہے بہت ضوفشاں وطن
نجمِ گہر سے پُر ہے تری کہکشاں ، وطن

اے آفتاب ! مجھ کو تمازت سے نہ ڈرا
گرمٸ دھوپ میں ہے مرا ساٸباں وطن

تیرے وجود سے مری وابستہ ہے حیات
میں جاٶں تجھ کو چھوڑ کے آخر کہاں وطن

"جاپان” و "مصر” و "چین” ہے اپنی جگہ مگر
ہے فخر مجھ کو میرا ہے "ہندوستاں” وطن

ترچھی نگاہ سے نہ ہمیں دیکھ اس طرح
ہم بھی ترے ریاض کے ہیں پاسباں وطن

خونِ جگر سے تیری سینچاٸی کریں گے ہم
تیرے چمن پہ آنے نہ دیں گے خزاں ، وطن

میرے بھی دل میں ہے تری الفت کے ولولے
شاہد ہے اس پہ ہند کی ہر داستاں وطن

ایوبؔ کے قلم میں ہیں کس کے تخیّلات؟
اقبال کے سخن کا ہے یہ ترجماں وطن

(انوارِ حسن سے ہے بہت ضوفشاں وطن)
(نجمِ گہر سے پُر ہے تری کہکشاں ، وطن)

از محمد ایوب رضا امجدی

کولکاتہ مغربی بنگال الہند


ہم ہیں اس طرح جاں نثارِ وطن

تیری الفت گوشئہ دل نے سنبھالا اے وطن

تو محبت کا عنوان ہے اے وطن

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں