اے شفیع روز محشر، السلام

بادشاہ ہفت کشور، السلام
اے شفیع روز محشر، السلام

ساقی تسنیم و کوثر، السلام
اے سکون قلب مضطر، السلام

تیرے دم سے ہے منور دوجہاں
"اے شب میلاد سرور، السلام”

آپ سے روشن ہے میری شام زیست
اور صبح جاں منور، السلام

چاند، سورج اور ستارے، کہکشاں
ہیں خمیدہ آپ کے در، السلام

جن و انساں ہی نہیں، شام وسحر
پڑھتے ہیں قدسی بھی جھک کر السلام

کیوں نہ ہو ورد زبان خاص و عام
بھیجتا ہے رب اکبر، السلام

اے شفیع المذنبیں بلوائیے !
مظہرعاصی کو در پر، السلام

(بادشاہ ہفت کشور، السلام)
(اے شفیع روز محشر، السلام)

از :- مظہر علی نظامی علیمی
سنت کبیر نگر یوپی


 

دل میں ہے میرے مدینہ الصلاۃ والسلام

Share this on

متعلقہ اشاعت

This Post Has One Comment

جواب دیں