بات جو تو نے کبھی ہم سے بنائی ہوتی

بات جو تو نے کبھی ہم سے بنائی ہوتی
یوں مصیبت نہ سرِ راہ اٹھائی ہوتی

سانس پھر لوٹ کے واپس نہیں آئی ہوتی
کوئی بجلی ہی فلک تونے گرائی ہوتی

یہ مرا ظرف تھا جو میں رہا قائم اب تک
بات اس‌ نے‌تو کوئی ایک نبھائی ہوتی

وصل کے بعد نہ یوں فصل کی کھائی ہوتی
تم‌ نے‌نفرت کی جو دیوار گرائی ہوتی

ہم‌ نے‌ ہر وقت انھیں دل میں بسائے رکھا
وہ نہ ہوتے تو کبھی چوٹ نہ کھائی ہوتی

تم‌اگر ساتھ میں چلنے کا ہنر رکھ پاتے
ہم پہ انگلی نہ زمانے‌ نے اٹھائی ہوتی

اس کو نفرت تھی اگر کھل کے بیاں کر جاتا
اس طرح کی نہ کوئی بات چھپائی ہوتی

ان سے بچھڑے تو یہ احساس ہمیں ہوتا ہے
ان کی نظروں سے نظر ہی نہ ملائی ہوتی

کاش ایّام محبت سے گزارے جاتے
گھر میں بھائی نے نہ دیوار لگائی ہوتی

چند الفاظ رقم کر لیے تم نے بھی‌ ادیب
شاعری کاش تمھیں ٹھیک سے آئی ہوتی

محمد ادیب رضا بدایونی

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں