میں چھوٹے لوگوں کے گھر کا بڑا ہوں، بات سمجھ!!!

تجھے نہ آئیں گی مفلس کی مشکلات سمجھ
میں چھوٹے لوگوں کے گھر کا بڑا ہوں، بات سمجھ!!!

مرے علاوہ ہیں چھے لوگ منحصر مجھ پر
مری ہر ایک مصیبت کو ضرب سات سمجھ!!!

فلک سے کٹ کے زمیں پر گری پتنگیں دیکھ
تو ہجر کاٹنے والوں کی نفسیات سمجھ!!!

شروع دن سے ادھیڑا گیا ہے میرا وجود
جو دکھ رہا ہے اسے میری باقیات سمجھ!!!

کریں یہ کام تو کنبے کا دن گزرتا ہے
ہمارے ہاتھوں کو گھر کی گھڑی کے ہاتھ سمجھ!!!

دل و دماغ ضروری ہیں زندگی کے لئے
یہ ہاتھ پاؤں اضافی سہولیات سمجھ!!!

(تجھے نہ آئیں گی مفلس کی مشکلات سمجھ)
(میں چھوٹے لوگوں کے گھر کا بڑا ہوں، بات سمجھ!!!)

عمیر نجمی


 

کڑے ہیں ہجر کے لمحات اس سے کہہ دینا

Share this on

متعلقہ اشاعت

This Post Has 2 Comments

  1. جاوید احمد خان

    بہت خُوب جناب

جواب دیں