بہت سے لوگ مجھ میں مر چکے ہیں

بہت سے لوگ مجھ میں مر چکے ہیں

کسی کی موت کو واقع ہوئے بارہ برس بیتے
کچھ ایسے ہیں کہ تیس اک سال ہونے آئے ہیں اب جن کی رحلت کو
ادھر کچھ سانحے تازہ بھی ہیں ہفتوں مہینوں کے
کسی کی حادثاتی موت اچانک بے ضمیری کا نتیجہ تھی
بہت سے دب گئے ملبے میں دیوار انا کے آپ ہی اپنی
مرے کچھ رابطوں کی خشک سالی میں
کچھ ایسے بھی کہ جن کو زندہ رکھنا چاہا میں نے اپنی پلکوں پر
مگر خود کو جنہوں نے میری نظروں سے گرا کر خود کشی کر لی
بچا پایا نہ میں کتنوں کو ساری کوششوں پر بھی
رہے بیمار مدت تک مرے باطن کے بستر پر
بالآخر فوت ہو بیٹھے
گھروں میں دفتروں میں محفلوں میں راستوں پر
کتنے قبرستان قائم ہیں
میں جن سے روز ہی ہو کر گزرتا ہوں
زیارت چلتے پھرتے مقبروں کی روز کرتا ہوں

عبد الاحد ساز

يه بھي پڑھيں:

شعور میں کبھی احساس میں بساؤں اسے

خوف ہوتا نہیں

نیند آتی نہیں خواب کے خوف سے

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں