بن کے رحمت حبیبِ خدا آئے ہیں

فرش پر عرش مصطفیٰ آئے ہیں
بن کے رحمت حبیبِ خدا آئے ہیں

لب پہ اپنے سجا لیں درودیں سبھی
شاہَ دیں سرور انبیا آئے ہیں

یونہی حیراں نہیں شمس بھی چاند بھی
نور رب لے کے بدرالدجی آئے ہیں

یہ ہے شانِ نبی ان کے سردار ہیں
جو بھی سنسار میں انبیا آئے ہیں

مرحبا آپ معراج کی رات میں
کر کے دیدار اللہ کا آئے ہیں

ظلمتِ َ کفر کے خاتمے کے ليے
بن کے سرکار نورالہدیٰ آئے ہیں

آج تصدیق ہے شادمانی کا دن
لے کے پیغامِ حق رہنما آئے ہیں

 

(فرش پر عرش مصطفیٰ آئے ہیں)
(بن کے رحمت حبیبِ خدا آئے ہیں)

تصدیق احمد خان "تصدیق” اجمیر


 

گلی گلی سجائیے مرے حضور آئے ہیں

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں