علامہ اقبال کے مصرع "خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے ” پر شعرا کی طرف لگائی گئیں ۱۲ گرہیں

علامہ اقبال کے مصرع
"خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے”
پر شعرا کی طرف لگائی گئیں ۱۲ گرہیں ملاحظہ فرمائیں

نبی سے عاشقی ہو عمر بھر ایسی کہ محشر میں
"خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے”
اسلم ویشالوی

رضائے حق پہ تُو راضی نہیں پھر بھی ہے یہ خواہش
"خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے”
حسن فردوسی

کچھ ایسا خاص ہو جائے اگر اسلام کی خاطر
"خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے”
محمدعبدالمجید محامدرضوی مصباحی

گناہوں میں کٹی یہ عمر اور دل میں یہ تمنا ہے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
محمد خوشنواز خان

سرِ اقدس سرِ محشر خدا کے روبرو ہو جب
”خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے“
فرشی مصباحی

نمازیں چھوڑ کر دل میں تمنا‌ یہ بسائی ہے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے ؟
محمد ادیب رضا بدایونی

بھٹک کر راہ حق سے دل میں یہ ارمان رکھتے ہیں
,,خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے,,
جان قادری بلرامپوری

نہیں کی بندگی رب کی مگر ارمان ہے پھر بھی
"خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے”
اسلام نوری

تو بن جا ایسا پیکر صبر کا اور استقامت کا
"خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے”
شرافت علی شیری بریلوی

جو بندہ اپنی مرضی کو ہے وارے اس کی مرضی پر
” خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے "
حافظ عبد الجلیل

اگر بندہ دل وجاں سے نبی کی پیروی کر لے
"خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے”
محسن اعجاز سیفی

اگر بندہ خدا کی مرضیوں کو سامنے رکھے
"خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے”

رضوان عاشق

 

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے پر گرہیں

 


چاہت نہیں ہے خیر کی جب خیرخواہ میں

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں