بے سبب بے آبرو ہونے لگی

بے سبب بے آبرو ہونے لگی
اور مجھ سے رو برو ہونے لگی

دور رہنا چاہتا تھا آپ سے
آپ سے پھر گفتگو ہونے لگی

رب سے مجھ کو مانگنے کے واسطے
کیا کہوں ! وہ قبلہ رو ہونے لگی

اس نے ہی چھوڑا ہمیں اور پھر اسے
کیوں ہماری آرزو ہونے لگی ؟

کچھ دنوں کے بعد جب دیکھا اسے
اور بھی وہ خوب رو ہونے لگی

عشق کی محفل سجانے کے لیے
پھر ہماری جستجو ہونے لگی

قتل کر کے عاشقوں کے عشق کو
کس قدر تو جنگجو ہونے لگی

اس پہ غیروں کے کئی الزام تھے
شکر ہے وہ سرخ رو ہونے لگی

در حقیقت دور تھی حامد سے تو
دل سے بھی اب دور تو ہونے لگی

حامد رضا ثقافی پلاموی
 پلاموں جھارکھنڈ

 


يه بھي پڑھيں:

سادگی بے آبرو ہونے لگی

دل کی پوری آرزو ہونے لگی

وصل کی جب آرزو ہونے لگی

Share this on

متعلقہ اشاعت

This Post Has One Comment

جواب دیں