بے وفاؤں کی طرح اس کو رلائی بارش

بے وفاؤں کی طرح اس کو رلائی بارش

جس طرح تیز مرے شہر میں آئی بارش
اُس طرح تیری خبر کیوں نہیں لائی بارش

تیرے پیغام جدائی پہ نظر پڑتے ہی
قلب مضطر سے نگاہوں میں سمائی بارش

ریت پر تم نے لکھا تھا جو پیامِ اُلفت
ایک لمحے میں صنم اس کو مٹائی بارش

حسن سے چاند ستاروں کی چمک آئے گی
غسل کر لو مری آنکھوں نے بہائی بارش

آرزو دید کی تیری بھی جو کی تھی میں نے
تو نہیں آئی مگر تنہا ہے آئی بارش

اب کہاں جائے بھلا کرنے شکایت شمسی!
بے وفاؤں کی طرح اس کو رلائی بارش

شمس الحق علیمی مہراج گنج یوپی


 

ہجر میں آگ لگاتی ہے یہ غم کی بارش

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں