چاہت نہیں ہے خیر کی جب خیرخواہ میں

شکوہ کریں کسی سے بھلا کس کی چاہ میں
چاہت نہیں ہے خیر کی جب خیرخواہ میں

آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے قاتل سے پوچھیے!
کیوں لے کے جا رہا ہے ہمیں قتل گاہ میں

پہلے ثواب پانے کو کانٹے ہٹائے تھے
اب ڈالتے ہیں کانٹے ستانے کو راہ میں

سنت سے دور ہونے کا انجام دیکھیے
کتنی فضول خرچی ہے شادی بیاہ میں

مسند نشین وقت! بلا کر ہمیں کبھی
درس وفا سناتے نہیں خانقاہ میں

پردہ ہٹا کے رخ سے حقیقت دکھائیے
کب تک ضیاع وقت کریں اشتباہ میں

ہو عشق! تیرا سایہ میسر خدا کرے
دل کو سکون ملتا ہے تیری پناہ میں

کر کے ہر اک گناہ سے توبہ بصدق دل
"اب سجدہ ریز ہوں گے تری بارگاہ میں”

آ! آج دیکھتے ہیں ذرا زورہائے عشق
کتنا ہے دم فقیر ! تری سرد آہ میں

شعر و ادب کے شوق نے ایسا بنایا حال
فارِح چلا ہے طفل بنے درس گاہ میں

فارِح مظفرپوری
۱۰/رمضان ۱۴۴۳
۱۳/اپریل ۲۰۲۲

 

طرح
اب سجدہ ریز ہوں گے تری بارگاہ میں
جوش ملیح آبادی

غزل

چاہت نہیں ہے خیر کی جب خیرخواہ میں


 

ہم نے نفرت کی جو دیوار گرائی ہوتی

 

Share this on

متعلقہ اشاعت

This Post Has 2 Comments

جواب دیں