دید گر تو نے مرے یار کرائی ہوتی

یوں نہ ہرگز یہ جمی ہجر کی کائی ہوتی
دید گر تو نے مرے یار کرائی ہوتی

آبلہ پا ہی چلا آتا مَیں پیچھے پیچھے
کاش ! آوازِ دگر تونے لگائی ہوتی

ٹکڑے ٹکرے مرا ہوجاتا ہر اک غم کا پہاڑ
"کوئی بجلی ہی فلک تو نے گرائی ہوتی”

سرد راتوں میں سکوں پاتے غریب و مسکیں
اُن کے ہاتھوں میں بھی گر کوئی رضائی ہوتی

"سالِ نو” دیتا بصد شوق ہمیں شاباشی
تھوڑی نیکی بھی اگر ہم نے کمائی ہوتی

مجھ کو افسوس نہیں ہوتا کبھی بھی اِتنا
آگ غیروں نے اگر گھر میں لگائی ہوتی

ایک مجبور پدر سے یہ کہا بیٹے نے
کاش ! اب آگے مری اور پڑھائی ہوتی

جوق در جوق چلے آتے سبھی پروانے
عشق کی شمع کہیں تو نے جلائی ہوتی

کوچۂِ اہل سخن سے جو تو ہوتا "ارشاد”
تیری بھی فکر فصاحت میں نہائی ہوتی

ارشاد رضا گونڈوی

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں