دیکھ مجھ کو ہی لہو ہونے لگی

دیکھ مجھ کو ہی لہو ہونے لگی

جب مصیبت روبرو ہونے لگی
تب خدا کی جستجو ہونے لگی

منصب و دولت پہ جب رہبر بکیں
قوم پھر کیوں سرخرو ہونے لگی

چھوڑ زمزم پیتے ہیں پیشاب جو
ان کی خنزیروں سی خو ہونے لگی

عارف و طارق تیاگی جیسوں سے
نار دوزخ دوبدو ہونے لگی

دین کے عالم نہیں جو نام کے
ان سے دینی گفتگو ہونے لگی

تھے گل و غنچہ غزل میں لیکن اب
خارسے بھی خوبرو ہونے لگی

عدل کی دیوی تھی اندھی لیکن اب
دیکھ دولت اس کی سو ہونے لگی

گھر ہے جنت ساس ماں جس میں بنے
اور بیٹی سی بہو ہونے لگی

بخشی تھی جس آنکھ کو اکبر نظر
دیکھ مجھ کو ہی لہو ہونے لگی

محمد اکبر علی برکاتی باگی جالون یو پی


يه بھي پڑھيں:

شیخ جی کو مے کی خُو ہونے لگی

وصل کی جب آرزو اس کو ہوئی

آپ سے جب گفتگو ہونے لگی

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں