آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا

کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا
آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا

کس رات نظر کی ہے سوے چشمک انجم
آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا

آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکن
ہونٹوں پہ مرے جب نفس باز پسیں تھا

اب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ
جو درد و الم تھا سو کہے تو کہ وہیں تھا

جانا نہیں کچھ جز غزل آ کر کے جہاں میں
کل میرے تصرف میں یہی قطعہ زمیں تھا

نام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انھوں کا
جن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیر نگیں تھا

مسجد میں امام آج ہوا آ کے وہاں سے
کل تک تو یہی میرؔ خرابات نشیں تھا

(کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا)
(آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا)

 میر تقی میر


تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

خودکشی مت کرو

دل کی پوری آرزو ہونے لگی

Share this on

متعلقہ اشاعت

بحر موجی كا تعارف

بحر موجی كا تعارف نام: دیا شنکر تخلص: بحر موجی تاریخ ولادت: 9 ستمبر 1911 جائےولادت: داؤد گنج، ضلع ایٹہ، اتر پردیش، بھارت تعلیم: جھانسی

مزید پڑھیں

امن لکھنوی كا تعارف

امن لکھنوی كا تعارف نام: گوپی ناتھ سریواستوا تخلص: امن لکھنوی تاریخ ولادت: 16 ستمبر یا 21 اکتوبر 1898 جائےولادت: لکھنؤ، اترپردیش، بھارت تعلیم: امن

مزید پڑھیں

شاکر بریلوی كا تعارف

شاکر بریلوی كا تعارف نام: کالکا پرشاد مہروترا تخلص: شاکر بریلوی سن ولادت: 1892 جائےولادت: بریلی، اترپردیش، بھارت شاکر بریلوی کے والد منگل سین مہروترا

مزید پڑھیں

شمیم کرہلوی كا تعارف

شمیم کرہلوی كا تعارف نام: دیا شنکر سکسینہ تخلص: شمیم کرہلوی سن ولادت: 1895 جائےولادت: قصبہ دھرمنگدر پور، اترپردیش، بھارت جناب شمیم کرہلوی نے الہ آباد

مزید پڑھیں

جواب دیں