دل کے چین و قرار کا موسم

دل کے چین و قرار کا موسم
آ گیا وصلِ یار کا موسم

ہے ترے بادہ خوار کا موسم
ساقیا ہے خمار کا موسم

اب نہیں انتظار کا موسم
آ گیا پھر بہار کا موسم

بے قراری بھی دور ہو جائے
ہے یہ فصلِ بہار کا موسم

عشق کی بات بس کیے جاؤ
یہ تو ساون ہے ! پیار کا موسم

موسموں کا بدلنا لازم ہے
پر نہ بدلے یہ پیار کا موسم

ہر طرف حال ہے عجب فیصل
چل رہا ہے بخار کا موسم

(دل کے چین و قرار کا موسم)
(آ گیا وصلِ یار کا موسم)

فیصل قادری گنوری


چاہا تھا قربت کا موسم

کتنا تھا البیلا موسم

مجھ کو لوٹا دے جوانی کا سہانا موسم

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں