دل کی پوری آرزو ہونے لگی

جب وہ میرے روبرو ہونے لگی
دل کی پوری آرزو ہونے لگی

جیسے جیسے فاصلے گھٹتے گیے
دھڑکنوں میں تو ہی تو ہونے لگی

عاشقی نے جب اثر مجھ پر کیا
خود سے خود کی گفتگو ہونے لگی

ہم کو پہلے بے وفا سمجھا گیا
"پھر ہماری جستجو، ہونے لگی”

جھیل سی اس کی نگاہیں دیکھ کر
ڈوبنے کی آرزو ہونے لگی

قید مجھ کو کر کے اپنے قلب میں
اس جہاں میں سرخرو ہونے لگی

ساتھ رہنے کا ترا وعدہ رہا
پھر اچانک کیوں عدو ہونے لگی

عشق ہوتا تھا ہمارے دور میں
اب یہ چاہت فالتو ہونے لگی

ڈر گئی شمسی! مری جانِ غزل
گفتگو جب چار سو ہونے لگی

شمس الحق علیمی مہراج گنج یوپی


يه بھي پڑھيں:

وصل کی جب آرزو ہونے لگی

دید کی بھی آرزو ہونے لگی

ان سے جب بھی روبرو ہونے لگی

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں