دل طلب گار کروں یا نہ کروں

دل طلب گار کروں یا نہ کروں

عشق سے عار کروں یا نہ کروں

پوچھنے آئے ہیں حالت میری

خود کو بیمار کروں یا نہ کروں

ضبط بے حس ہی نہ کر ڈالے کہیں

غم کا اظہار کروں یا نہ کروں

مجھ سے کمزور ہے دشمن میرا

اس پہ میں وار کروں یا نہ کروں

دل محبت سے ڈراتا ہے مجھے

اس کو بے زار کروں یا نہ کروں

جس کی ہر موج ہے بپھری بپھری

وہ ندی پار کروں یا نہ کروں

زینؔ ہجرت کے اشارے ہیں مجھے

خود کو تیار کروں یا نہ کروں

سید انوار زینؔ


آپ کی چاہت کروں یا نہ کروں

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں