دشمنی دل کی اگر ہم نے مٹائی ہوتی

دشمنی دل کی اگر ہم نے مٹائی ہوتی
پھر نہ اپنوں سے کبھی اپنی جدائی ہوتی

کوئی گستاخ نبی ہند میں ہوتا ہی نہیں
کاش! تحریک کوئی ہم نے چلائی ہوتی

شہر کے سارے غریبوں کی مدد کردیتے
کاش لاکھوں میں ہماری بھی کمائی ہوتی

حاکم وقت نے گر وعدہ نبھایا ہوتا
یوں غریبوں کی زباں پر نہ دہائی ہوتی

میں لڑا کرتا حکومت سے غریبوں کے لیے
کاش ایوان سیاست میں رسائی ہوتی

دیکھنے والے سمجھ جاتے مسلمان ہو تم
تم نے چہرے پہ اگر داڑھی سجائی ہوتی

حاکم وقت اگر واقعی منصف ہوتا
ہندو مسلم میں نہ اے شوق لڑائی ہوتی

محمد شوقین نواز شوق فریدی
خانقاہ فریدیہ جوگیا شریف کھگڑیا بہار انڈیا

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں