اک ذکرِ وصلِ یار سے کیا کیا بدل گیا

اک ذکرِ وصلِ یار سے کیا کیا بدل گیا
دل کا لہو بھی فرطِ جنوں میں ابل گیا

پوچھے وہ مجھ سے کچھ، ہے عجب بولتی ہوں کچھ
جانے کہاں دماغ مرا آج کل گیا

کیوں دل میں بھر گیا ہے دھواں اک سرور کا
"شاید جگر حرارتِ عشقی سے جل گیا”

کچھ اس طرح سے چاہا تجھے ٹوٹ کر کہ بس
پورا وجود عشق کے پیکر میں ڈھل گیا

اس نے پکارا بزم میں کہہ کر جو مجھ کو جاں
مارے خوشی کے دل تو گلے تک اچھل گیا

دیدِ متاعِ جان ہے اور دل کی شوخیاں
سینے کا قفل توڑ کے باہر نکل گیا

اس سے کہو کہ بات نہ ہو ہجر کی کرنؔ
تم جو گئے تو جان لو سانسوں کا دٙل گیا

کرن زہرہ ، کراچی


يه بھي پڑھيں:

سورج کا بخت شام کی چوکھٹ پہ ڈھل گیا

تنہائیوں میں بیٹھ کے کہنے غزل گیا

اخبار پڑھ کے میرا کلیجہ دہل گیا

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں