اک ذکرِ وصلِ یار سے کیا کیا بدل گیا

اک ذکرِ وصلِ یار سے کیا کیا بدل گیا
دل کا لہو بھی فرطِ جنوں میں ابل گیا

پوچھے وہ مجھ سے کچھ، ہے عجب بولتی ہوں کچھ
جانے کہاں دماغ مرا آج کل گیا

کیوں دل میں بھر گیا ہے دھواں اک سرور کا
"شاید جگر حرارتِ عشقی سے جل گیا”

کچھ اس طرح سے چاہا تجھے ٹوٹ کر کہ بس
پورا وجود عشق کے پیکر میں ڈھل گیا

اس نے پکارا بزم میں کہہ کر جو مجھ کو جاں
مارے خوشی کے دل تو گلے تک اچھل گیا

دیدِ متاعِ جان ہے اور دل کی شوخیاں
سینے کا قفل توڑ کے باہر نکل گیا

اس سے کہو کہ بات نہ ہو ہجر کی کرنؔ
تم جو گئے تو جان لو سانسوں کا دٙل گیا

کرن زہرہ ، کراچی


يه بھي پڑھيں:

سورج کا بخت شام کی چوکھٹ پہ ڈھل گیا

تنہائیوں میں بیٹھ کے کہنے غزل گیا

اخبار پڑھ کے میرا کلیجہ دہل گیا

Share this on

متعلقہ اشاعت

بحر موجی كا تعارف

بحر موجی كا تعارف نام: دیا شنکر تخلص: بحر موجی تاریخ ولادت: 9 ستمبر 1911 جائےولادت: داؤد گنج، ضلع ایٹہ، اتر پردیش، بھارت تعلیم: جھانسی

مزید پڑھیں

امن لکھنوی كا تعارف

امن لکھنوی كا تعارف نام: گوپی ناتھ سریواستوا تخلص: امن لکھنوی تاریخ ولادت: 16 ستمبر یا 21 اکتوبر 1898 جائےولادت: لکھنؤ، اترپردیش، بھارت تعلیم: امن

مزید پڑھیں

شاکر بریلوی كا تعارف

شاکر بریلوی كا تعارف نام: کالکا پرشاد مہروترا تخلص: شاکر بریلوی سن ولادت: 1892 جائےولادت: بریلی، اترپردیش، بھارت شاکر بریلوی کے والد منگل سین مہروترا

مزید پڑھیں

شمیم کرہلوی كا تعارف

شمیم کرہلوی كا تعارف نام: دیا شنکر سکسینہ تخلص: شمیم کرہلوی سن ولادت: 1895 جائےولادت: قصبہ دھرمنگدر پور، اترپردیش، بھارت جناب شمیم کرہلوی نے الہ آباد

مزید پڑھیں

جواب دیں