فکرتیری باوضو ہونے لگی

جب جہاں میں تند خو ہونے لگی
ذات تیری زردرو ہونے لگی

حکمرانی ہوگی تیری ہی، اگر
فکرتیری باوضو ہونے لگی

حرص ولالچ جب سے تم میں آگیا
ہر طرف سے آخ تھو ہونے لگی

دین کو یہ بھولنے کا ہے اثر
زک تمہاری چارسو ہونے لگی

آگیا ہے وقت کیسا اے خدا
آبرو بے آبرو ہو نے لگی

جب سےتونے چھوڑے ہیں لوح و قلم
فکر تیری ترشرو ہونے لگی

جب چلے ہم چھوڑ کر اس دہر کو
"پھر ہماری جستجو ہونے لگی”

آپ نے کیا کہہ دیا وؔافی میاں
چارو جانب گفتگو ہونے لگی

غلام محی الدین وؔافی علیمی


يه بھي پڑھيں:

عشق میں آنسو بہائے ہیں بہت

جب سے تیری آرزو ہونے لگی

جھیل سی آنکھیں کسی کی دیکھ کر

Share this on

متعلقہ اشاعت

This Post Has One Comment

جواب دیں