پھر نہ حکام کے ظلموں کی دہائی ہوتی

پھر نہ حکام کے ظلموں کی دہائی ہوتی
رب کی دہلیز پہ گردن جو جھکائی ہوتی

بابِ گستاخی اگر کھلتے ہی کرتے ہم بند
یوں نہ شرمندگی ہم سب نے اٹھائی ہوتی

ہوتے مقبولِ درِ مولی، اگر آنکھوں سے
چادر حرصِ و ہوس تم نے ہٹائی ہوتی

خاک ہونا ہی مقدر تھا تو چنگاری کیوں
کوئی بجلی ہی فلک تونے گرائی ہوتی

کام میں صبر و تحمل کو جو لاے ہوتے
آج رشتوں میں ہمارے نہ کھٹائی ہوتی

ہم تو قرباں ہوے رسموں کے تقدس کے لیے
کاش تم نے بھی کوئی رسم نبھائی ہوتی

ملتا تجھ کو بھی کسی روز تقرب شاہد
آنکھ گر اشک ندامت سے نہائی ہوتی

محمد شاہد علی مصباحی

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں