گلی گلی سجائیے مرے حضور آئے ہیں

گلی گلی سجائیے مرے حضور آئے ہیں

 

پیامی جلدی آئیے مرے حضور آئے ہیں
پیام یہ سنائیے مرے حضور آئے ہیں

عقیدتوں میں ڈوب کر محافل درود آپ
گلی گلی سجائیے مرے حضور آئے ہیں

مہینہ بھی حسین ہے یہ آمدِ حضور کا
ادب سے گنگنائیے مرے حضور آئے ہیں

درود اور نعت شہ شبانہ روز پڑھ کے آپ
نصیب جگمگائیے مرے حضور آئے ہیں

مری طرف خود آ گئی نسیم صبح بولنے
سرِ ادب جھکائیے مرے حضور آئے ہیں

یہی ہے دل کی آرزو لبوں کو کر کے مشکبو
خوشی کےگیت گائیے مرے حضور آئے ہیں

صدائے آمنہ ملی طلب ہے گھر کو روشنی
حلیمہ! مکہ آئیے مرے حضور آئے ہیں

کرم کریں گے، ہیں کریم، غریب و مفلس و یتیم!
خوشی سے مسکرائیے مرے حضور آئے ہیں

رہیں نہ آپ بے قرار سنا کے بس یہ بار بار
قرار دل کا پائیے مرے حضور آئے ہیں

لگا کے نعرۂ نبی ، جگر، نظر، زبان سے
غلام! کہتے جائیے، مرے حضور آئے ہیں

از :  غلام ربانی فارح مظفرپوری


 

منائیں عید سب مل کر مرے سرکار آئے ہیں

Share this on

متعلقہ اشاعت

This Post Has 2 Comments

جواب دیں