ہیں بے شمار چمن میں گلاب آزادی

ہیں بے شمار چمن میں گلاب آزادی

ہے چرخِ ارض پہ رحمت سحابِ آزادی
حیاتِ نو کی بشارت ہے آبِ آزادی

ہمارا حق بھی برابر ہے اس کی مٹی پر
ہے فرد فرد یہاں فیض یابِ آزادی

مجاہدین وطن ہی ہیں حریت کا نشاں
انھیں کو زیب ہے بس انتسابِ آزادی

میں کس کی خوشبو کو رشکِ مشامِ ہند کہوں
ہیں بے شمار چمن میں گلاب آزادی

غلامیت کے اندھیرے کا ڈر نہیں ہم کو
ہے نور بار سدا ماہتاب آزادی

لکھی ہے تیرے بزرگوں کی داستاں اس میں
"کبھی تو کھول کے پڑھ لے کتابِ آزادی”

وطن کے نام پہ ہر درد ہنس کے سہہ لینا
دراصل نوری یہی ہے نصاب آزادی

از
فیض العارفین نوری علیمی شراوستی یوپی


لکھا ہے خونِ شہیداں سے بابِ آزادی

کیوں ہم سے مانگ رہے ہو حسابِ آزادی

چھلک رہاہے نگاہوں سےآب آزادی

Share this on

آرکائیوز

متعلقہ اشاعت

This Post Has One Comment

جواب دیں