ہم نے گر سیرت آقا نہ بھلائی ہوتی

ہم نے گر سیرت آقا نہ بھلائی ہوتی
آسماں پر بھی ہماری ہی رسائی ہوتی

کس میں دم تھا کہ ہمیں انگلی دکھاتا یارو
ظلم سے آنکھ اگر ہم نے ملائی ہوتی

تیری نسلوں کی نشانی بھی نہ رہتی باقی
ہم نے شمشیر اگر تجھ پہ چلائی ہوتی

کامیابی تو قدم چومتی آگے بڑھ کر
آتش بغض و حسد گر نہ لگائی ہوتی

کوئی بھوکا نہیں سوتا کبھی اپنے گھر میں
غمگساری پہ اگر ساری خدائی ہوتی

ابن قاسم کی اگر راہ پہ چلتے ہم بھی
آج لب پر نہ ہمارے یہ دہائی ہوتی

سیرت سرور عالم جو ہم اپنا لیتے
بھائی بھائی میں کبھی یوں نہ لڑائی ہوتی

ظالم وقت کو دنیا سے مٹانے کے لیے
کوئی بجلی ہی فلک تو نے گرائی ہوتی

خود کشی کرتا نہیں باپ کسی کا بھی جسیم
اتنی مہنگی نہ اگر شادی رچائی ہوتی

از قلم_محمد جسیم اکرم مرکزی
9523788434

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں