ہماری شان ہے عزت ہے پر وقار وطن

ہماری شان ہے عزت ہے پر وقار وطن
وفا،خلوص و مروت کاپر بہار وطن

وہ سکھ ہو مسلم و ہندو ہو یا کہ عیسائی
سبھی کو تجھ سے محبت ہے اور پیار وطن

نہ جانے کتنے سپوتوں نے جاں گنوائی ہے
تمہاری گود میں پلتے ہیں ہونہار وطن

پکا رتی ہے یہی رزم گاہ آزادی
ہوا ہے خون شہیداں سے لالہ زار وطن

وہ فضل حق وہ بھگت سنگھ،کافی و باقر
کرے گا یاد شہیدوں کو بار بار وطن

ہمیں تو گردش گردوں یہی بتاتی ہے
صعوبتوں سے ملاہے یہ خوشگوار وطن

تمہاری گود میں بہتی ہیں سیکڑوں ندیاں
یہیں پہ گنگ و جمن کی ہے آبشار وطن

بلندکوہ ہمالہ سا ہے وقار ترا
ہے تجھ پہ وافئ خستہ کو افتخار وطن

(ہماری شان ہے عزت ہے پر وقار وطن)
(وفا،خلوص و مروت کاپر بہار وطن)

نتجۂ فکر: غلام محی الدین وافی علیمی


رب تعالیٰ نے بڑھائی ہے تری شان وطن

تو ہے "بھارت” ہے تجھی سے مری پہچان وطن

جان سے پیارا ہے مجھ کو دوستو اپنا وطن

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں