ہم کو ہے جاں سے پیارا ہندوستاں ہمارا

ہندوستاں ہمارا 

دل جاں ، جگر ہمارا ہندوستاں ہمارا

ہم کو ہے جاں سے پیارا ہندوستاں ہمارا

اپنے وطن کی الفت سینوں میں ہے ہمارے

 لب پر ہمارے نعرہ ہندوستاں ہمارا

سارے جہاں میں اس کا کوئی نہیں ہے ثانی 

ہے سب سے ہی نرالا ہندوستاں ہمارا

مسلم، عیسائی، ہندو، سکھ گُل ہیں اس کے بیشک

گلشن ہے اک مہکتا ہندوستاں ہمارا

خوں دے کے ہم سبھی نے سینچا ہے اس زمیں کو

تاکہ رہے پنپتا ہندوستاں ہمارا

دھرتی گگن ہمارے گنگ وجمن ہمارے

ہم بلبلیں ہیں ، سارا ہندوستاں ہمارا

امن و اماں کے گل تو پھرسے کھلا دے مولا

 ہے یہ خزاں رسیدہ ہندوستاں ہمارا

دنگے فساد لنچنگ سے ہوگیا پریشاں

جگ میں بنا تماشہ ہندوستاں ہمارا

ہم کو ستارہے ہیں اب اپنے ہم وطن ہی 

ہے وقت کیسا لایا ہندوستاں ہمارا

مشکل ہے وقت آیا اپنے وطن میں ہم پر

پھربھی ہمیں ہے پیارا ہندوستاں ہمارا

سونے کی تھا یہ چڑیا ایسا بھی تھا زمانہ

اب ہے یہ بھوکا پیاسا ہندوستاں ہمارا

کس کی نظر لگی ہے جانے یہ کیاہواکہ

ہونے لگا پرایا ہندوستاں ہمارا

موسم یہ کیسا آیا ہرسوہے خوف چھایا

رہتا ہے سہما سہما ہندوستاں ہمارا

کہتے تھے جنکو بھائی وہ بن گئےقصائی 

ہے رنج وغم میں ڈوبا ہندوستاں ہمارا

توقير شان وعظمت کا تھا کبھی ہمالہ

اب ہورہا ہے رسوا ہندوستاں ہمارا

تکلیف میں بہت ہے پھر بھی صدا ہے دل کی 

"سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا”

یارب نبی کے صدقے ہم پر ہو مہربانی

ہم سے ہے چھینا جاتا ہندوستاں ہمارا

خواجہ پیا کے صدقے اشرف پیاکے صدقے 

کردے خدایا پہلا ہندوستاں ہمارا

ظلم وستم سے بندے تیرے ہیں یاں پریشاں

کرتا ہے نالے گریہ ہندوستاں ہمارا

گہوارہ امن کا پھرکردے اسے خدایا

پاے سکون سارا ہندوستاں ہمارا

خالد وطن پہ اپنے ہم جان وارتے ہیں

محبوب ہے ہمارا ہندوستاں ہمارا

 

(دل جاں ، جگر ہمارا ہندوستاں ہمارا)

(ہم کو ہے جاں سے پیارا ہندوستاں ہمارا)

فقیراشرفی سیدخالدعبداللہ اشرفی اورنگ آباد مہاراشٹر الہند


ترنگا گھر پہ لگاتے ہیں یوم آزادی

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں