ہر ایک چیز وہ پرور دگار دیتا ہے

ہر ایک چیز وہ پرور دگار دیتا ہے
جو لفظ کُن٘ سے جہاں کو سنوار دیتا ہے

عِنان گردش ایّام کا جو حاکم ہے
زمانے کو وہی لیل و نہار دیتا ہے

وہی ہے جگ کے نشیب و فراز کا صانع
وہی زمانے کو نقش و نگار دیتا ہے

سنا رہی ہے یہ مژدہ اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہ
دل حزیں کو وہ پل میں قرار دیتا ہے

نسیم کوۓ محمد ﷺ کے صدقے ہی میں خدا
” گلوں کو رنگ، چمن کو بہار دیتا ہے“

کریم ایسا کہ محبوب بھی دیا اپنا
بتاؤ لوگو ! کوئی اپنا یار دیتا ہے؟

کرم کو ناز ہے تیرے کرم پہ اے مولیٰ
عیوب جان کے بھی تُو یہ پیار دیتا ہے

ملے گا صدقۂ لَی٘سَ کَمِث٘لِہٖ ہم کو
جو بے مثال ہے وہ شاندار دیتا ہے

چمن میں آب تُو دیتا جا باغباں پیہم
خزاں کے بعد ہی مولیٰ بہار دیتا ہے

قلم میں عشق نبی کی سیاہی ڈال کے لکھ
جبھی وہ شعر میں سوز و خمار دیتا ہے

زبان و فکر ہے ایوبؔ اس کی مدح میں ضم
ترے قلم کو جو لعل آبدار دیتا ہے

محمد ایوب رضا امجدی

کولکاتہ

 

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں