ہر دم نقاب چہرے پہ اپنے سجائیں گے

ہر دم نقاب چہرے پہ اپنے سجائیں گے
ہم دشمنان دین کو یوں ہی جلائیں گے

پردہ ہماری شان ہے عزو وقار ہے
اے حکمران وقت تجھے ہم بتائیں گے

پردے پہ تم اٹھاتے ہو انگلی اے گیدڑو !
ہم نسل کو تمھاری جہاں سے مٹائیں گے

بے پردہ گھومتی ہیں سر رہ جو عورتیں
ان کو فرشتے سوے جہنم لے جائیں گے

پردے پہ کر رہے ہیں سیاست جو ، وہ سنیں
نا کام ساری سازشیں ان کی بنائیں گے

پردہ ہمارے دین کا حصہ ہے جان لو
ہم اپنی بیٹیوں کو سبق یہ پڑھائیں گے

درسِ حجاب ہم کو ملا جس کی ذات سے
اس فاطمہ بتول کی حرمت بچائیں گے

اے عارفہ یہ کہہ دوحکومت سے برملا
مر جائیں گے نقاب نہ رخ سے ہٹائیں گے

عارفہ فاطمہ ہردولی ضلع باندہ یوپی الہند

 

يه بھي پڑھيں:

تم حجاب کے بارے کیا فضول بَکتے ہو

کفر لرزا ہے جب اک مسکان کی تقریر سے

یعنی مسکان تری رسمِ قیادت کو سلام

تو نے اک ہلچل مچادی نعرۂ تکبیر سے

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں