ہجر میں آگ لگاتی ہے یہ غم کی بارش

قطرہ قطرہ مری آنکھوں سے برستی بارش
ہجر میں آگ لگاتی ہے یہ غم کی بارش

کیوں تری زلفوں کے لہرانے سے چھاتی ہے گھٹا
کیوں ترے جسم کو چھو کر ہے مہکتی بارش

ساز کچھ اور ہیں محلوں کی چھتوں پر اس کے
ٹین کی چھت پہ اترتی ہے گرجتی بارش

کیوں مجھے کچے مکانوں کا خیال آتا ہے
جب نشیبوں کی طرف جاتی ہے بہتی بارش

ساتھ وہ جب بھی مرے ہوتی ہے برساتوں میں
دل میں جذبات جگاتی ہے امنڈتی بارش

رنگ پھولوں کے نکھرتے ہیں حیا سے کتنے
چومتی ہے جو بہکتی سی مچلتی بارش

زینؔ ماضی کے دریچوں میں کبھی جھانکو تو
دل میں یادوں کی برستی ہے انوکھی بارش

(قطرہ قطرہ مری آنکھوں سے برستی بارش)
(ہجر میں آگ لگاتی ہے یہ غم کی بارش)

سید انوار زینؔ


 

گلوں پہ لائی نکھار بارش

Share this on

متعلقہ اشاعت

This Post Has 2 Comments

جواب دیں