ہونٹوں پہ نعتِ پاک کا مصرع مچل گیا

آئی جو انکی یاد سماں ہی بدل گیا
ہونٹوں پہ نعتِ پاک کا مصرع مچل گیا

روشن ہے جس کے دل میں محبت کا اک چراغ
سوئے مدینہ بس وہی آنکھوں کے بل گیا

آئی یہ بو کہاں سے اچانک جلی جلی
،،شاید جگر حرارتِ عشقی سے جل گیا،،

اخلاق جن کا دیکھیے قرآن پاک ہے
پتھر بھی پائے ناز سے پل میں پگھل گیا

جس کے بھی دل میں آگئی بغضِ نبی کی دھول
پھر کیا ہوا کہ وہ رہِ حق سے پھسل گیا

سارے مصائب آج ​ مصائب میں گھر گئے
ذکرِ نبی سے دل مرا ایسا بہل گیا

ارض و سما ہماری روش پر ہیں مضمحل
دامن نبی کا ہاتھ سے جب سے نکل گیا

رشکِ گہر ہے زندگی احمؔد اسی کی جو
عشقِ رسولِ پاک کے سانچے میں ڈھل گیا

شیخ احمد نقشبندی اعظمی


يه بھي پڑھيں:

اک اجنبی کو دیکھ کے ناداں مچل گیا

رنج وغمِ حیات کا کانٹا نِکل گیا

جو مصطفٰے کے عشق کے سانچے میں ڈھل گیا

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں