فضاؤں میں ہر اک جانب دھواں ہے

فضاؤں میں ہر اک جانب دھواں ہے

گرانی کا یہ دور بے اماں ہے
وہ خوش قسمت ہے جس پر سائباں ہے

کوئی بتلائے اس کو میری حالت
سمجھتا ہے وہ سب امن و اماں ہے

سنے جاتے ہیں سب مسحور ہو کر
ستم گر تیری ایسے داستاں ہے

حکومت کر رہا ہے کوئی ظالم
فضاؤں میں ہر اک جانب دھواں ہے

بتائے کوئی مظلوموں سے جاکر
تمھاری تیغ برق بے اماں ہے

درندوں کے حوالے کر کے خوش ہے
بڑا غافل ہمارا پاسباں ہے

کیا ہے تو نے اس بھارت کو بھارت
ہر اک ذرے پہ تیرا ہی نشاں ہے

کسی قابل نہیں شاہد میں لیکن
نہ جانے کیوں وہ مجھ پر مہرباں ہے

محمد شاہد علی مصباحی


 

تمہارا نام بس وردِ زباں ہے

ہمارا ملک جو جنت نشاں ہے

محبت قلب کے اندر نہاں ہے

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں