الہی مبتدا تو ہے الہی منتھی تو ہے

الہی مبتدا تو ہے الہی منتھی تو ہے
زمین و آسماں کون ومکاں سب کا خدا تو ہے

وہ ہندی ہو فلسطینی کہ کشمیری کہیں سے ہو
سبھوں کا حال کیا ہے اے خدا بس جانتا تو ہے

زمانے کا بھلا ہو خوف مجھ کو اےخدا کیوں کر
جلا تا ہے سبھی کو تو خدایا مارتا تو ہے

گھرے ہیں ہم وباؤں سے نہیں کوئی سواتیرے
الہی مشکلوں میں سب کے دل کا آسرا تو ہے

ترےدرکےہی منگتےہیں عبادت تیری کرتےہیں
کوئی معبود ہو کیوں کرخداؤں کا خدا تو ہے

نبیﷺ کےواسطے مولی ہماری آبرو رکھ لے
ہمارے حال سے مولی بخوبی آشنا تو ہے

وبائیں ہم سے کہتی ہیں خدا راضی نہیں تم سے
ہمیں تو بخش دے مولی اگر ہم سے خفا تو ہے

کرم ہو قوم مسلم پر بچا ہم کو بلاؤں سے
سفینہ ہے بھنور کے بیچ اس کا ناخدا تو ہے

دعا لے کر ترے در پر کھڑا ہے واؔفئ خستہ
ہماری مشکلیں آسان کر مشکل کشا تو ہے

غلام محی الدین واؔفی
شیوہر بہار انڈیا

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں