اس بھرے شہر میں کوئی ایسا نہیں

تبدیلی

اختر الایمان
اس بھرے شہر میں کوئی ایسا نہیں
جو مجھے راہ چلتے کو پہچان لے
اور آواز دے او بے او سرپھرے
دونوں اک دوسرے سے لپٹ کر وہیں
گرد و پیش اور ماحول کو بھول کر
گالیاں دیں ہنسیں ہاتھاپائی کریں
پاس کے پیڑ کی چھاؤں میں بیٹھ کر
گھنٹوں اک دوسرے کی سنیں اور کہیں
اور اس نیک روحوں کے بازار میں
میری یہ قیمتی بے بہا زندگی
ایک دن کے لیے اپنا رخ موڑ لے
اس بھرے شہر میں کوئی ایسا نہیں

اختر الایمان

Share this on

Share on facebook
Share on whatsapp
Share on twitter
Share on telegram
Share on email
Share on print

متعلقہ اشاعت

جواب دیں