جنگ آزادی اور خدمتِ وطن میں سچے مسلمانوں کا کردار ، از فریدی صدیقی مصباحی

جنگ آزادی اور خدمتِ وطن میں سچے مسلمانوں کا کردار ، از فریدی صدیقی مصباحی

 بارہ بنکوی، (مسقط، عمان)

سامناظلم کا،بے خوف وخطرہم نے کیا 

وقت آیا تو فدا ہند پہ سر ہم نےکیا 

آج جو پھول نظر آتے ہیں آزادی کے 

اِن گلوں کیلیے،کانٹوں کا سفر ہم نے کیا 

کیسے جاتے نہ بھلا ہند سے ظالم انگریز

انکومجبور ہر اک شام و سحر ہم نے کیا

پھیکاپھیکا تھا غلامی سے وطن کا چہرہ 

دےکے آزادی، منور یہ قمرہم نے کیا 

ملک وملت کیلیے،ہنس کے چڑھے دار پہ بھی 

خوف کھایا، نہ اگر اور مگر ہم نے کیا 

سرفروشی میں رہے ہم بھی برابر کے شریک

آئ مشکل، تو فدا جان و جگر ہم نے کیا

ایک بالشت بھی،دشمن کو نہیں دے سکتے 

جس زمیں کیلیے،شعلوں کا گزر ہم نے کیا 

فضلِ حق،کافی،واشفاق و عنایت جیسا 

نذر ، اِس خاک کی، ہر ایک گہر ہم نے کیا 

اک طرف،اِسپہ نچھاور ہوئےشیرِ میسور 

دوسری سمت،، فدا شاہ ظفر ہم نے کیا 

ہستیاں جنکی تھیں، سرمایۂ ملک وملت 

فخر سے،ہند پہ قربان وہ زر ہم نے کیا

خانقاہوں سے مدارس سے اٹھائ آواز

لڑ کے انگریز کو یوں ملک بدر ہم نے کیا

نفرتیں بانٹنے والوں سے رہے ہم بیزار 

ملک والوں کوسدا، شِیر و شَکَر ہم نے کیا 

زخم پر زخم دئیے اہلِ عداوت نے ہمیں 

پھربھی اِس مُلک کومحبوبِ نظر ہم نے کیا 

امتحاں لیتے رہے ہم سے، ہمارے دشمن

پیش ہربار ہی،جرأت کاہنر، ہم نے کیا 

جیتےجی کون چُھڑاپاے گا یہ ملک بھلا ؟ 

موت کےبعد بھی،اِس خاک کو گھر ہم نے کیا 

لوگ تو ہمکو مٹانےکی سدا تاک میں ہیں 

ہم مٹے ،، اور نہ کوئی دوسرا در ہم نے کیا 

صبر،خودداری،دلیری، ہے ہماری فطرت 

جس سےگلزار،ہراک غم کا شرر ہم نے کیا 

آج کہتےہیں کہ پھل پھول پہ کچھ حق ہی نہیں 

جبکہ خوں دیکے، گھنیرا یہ شجر ہم نے کیا 

سن لیں! غداری کاالزام لگانے والے 

خدمتِ ملک میں، ہرلمحہ بسر ہم نے کیا 

ہم فریدی، کبھی پیچھے نہیں ہٹنے والے 

جوکیا،جب بھی کیا،ہوکےنِڈرہم نے کیا 

 

از: سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحی


خون کا خون کر گیے مُنصِف

حجاب ، دشمنانِ اسلام کا کفن

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں