جذبۂ عشق کو بیدارکروں یانہ کروں

جذبۂ عشق کو بیدارکروں یانہ کروں

قلبِ ویران کو گلزار کروں یانہ کروں

عشق ہے آگ کا دریا تو بتا دے کوئی

جاں بکف ہو کے اسے پارکروں یا نہ کروں

ایک ہی فکر زمانے سے مجھے ہے لاحق

وقت نازک ہے بہت پیار کروں یانہ کروں

دل کا سودائی سر بزم کہے ہنس ہنس کر

تیر اس پار سے اس پار کروں یانہ کروں

میری عزت کا جسے پاس نہیں ہے کچھ بھی 

اس کو رسوا سربازار کروں یا نہ کروں

وقت رحلت لگا شیطان یہ آ کر کہنے

وقت نازک ہے بتا وار کروں یا نہ کروں

حال دل پوچھنے آئے ہیں مرا وہ مظہر!

خود کو اے یار! میں بیمار کروں یانہ کروں

(جذبۂ عشق کو بیدارکروں یانہ کروں)

(قلبِ ویران کو گلزار کروں یانہ کروں)

مظہر علی نظامی علیمی

سنت کبیر نگر یوپی


میں اسے پیار کروں یا نہ کروں

Share this on

متعلقہ اشاعت

This Post Has 2 Comments

جواب دیں