جو بات سید عالم تمہاری ذات میں ہے

جو بات سید عالم تمہاری ذات میں ہے
قسم خدا کی نہیں پوری کائنات میں ہے

اے بے کسوں کے سہارہ اے سرورِ عالم
تمہارا ذکر ہمارے لوازمات میں ہے

وہ خوش ہی رہتا ہے لکھتا ہے نعت جو اُن کی
"یہ بات برسوں سے میرے مشاہدات میں ہے”

تمہارے در سے بہت دور ہیں مگر آقا
تمہارا روضہ ہمارے تخیلات میں ہے

جو ان سے بغض رکھے گا وہ دوزخی ہوگا
جو ان کا شیدا ہے واللہ وہی نجات میں ہے

نبی کی شان کو کمتر بتاتا ہے نجدی
اسی لیے تو ابھی تک تو مشکلات میں ہے

میں یوں تو ہند میں رہتا ہوں دوستو لیکن
مدینہ پاک کا نقشہ تصورات میں ہے

اے شوق بلبل سدرہ نبی سے کہتے ہیں
تمہارے جیسا نہیں کوئی کائنات میں ہے

محمد شوقین نواز شوق فریدی
خانقاہ فریدیہ جوگیا شریف کھگڑیا بہار

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں