کرتے رہیں حضور کی مدحت ہزاربار

کرتے رہیں حضور کی مدحت ہزاربار
برسے گا ابرلطف وعنایت ہزاربار

ان کے بغیر ہستی ہماری ہے کالعدم
ان سےکریں گے دعوی ٕالفت ہزاربار

بھیجو اے عاشقان رسالت مدام تم
,,ہردشمن رسول پہ لعنت ہزار بار,,

گستاخ مصطفی کی سزا صرف قتل ہے
سرچڑھ کےیہ سناٸیں روایت ہزاربار

گستاخ تیری لاش کوکتے چباٸیں گے
تجھ کوملےگی دہر میں ذلت ہزاربار

تف ہوتمھاری عقل پہ ،منھ میں ہوخاک وآگ
ہرگام پہ ہوتم کوہزیمت ہزار بار

بد بخت ، بدتمیز ،اے مردودو بدچلن
نازل ہوتجھ پہ رنج ومصیبت ہزاربار

خود کو بچانہ پاے گا معتوب وبدقماش
لپٹے گی تجھ سے گرد نحوست ہزار بار

چمڑی ادھیڑ دیں گے سمجھ کیارکھےہوتم
کرنےنہ دیں گےتم کوشرارت ہزاربار

لغزش کبھی نہ آے گی پاے ثبات میں
لکھیں گے داستان عزیمت ہزاربار

سرشارخود کورکھیں گےان کی ولامیں ہم
پیتےرہیں گے جام محبت ہزاربار

لوح جہاں پہ عاشق سرور بصد خلوص
تحریرکر وفا کی عبارت ہزار بار

اٹھیےاے خانقاہ کے ارباب حل وعقد
آواز دےرہی ہےقیادت ہزاربار

ایسی سزا دلاٶکہ عبرت کاہونشان
ہو شاتم حضور پہ شدت ہزاربار

ناموس مصطفاٸی پہ قربان ہےسدا
واصف رضا کی عزت ودولت ہزار بار

رشحات قلم
واصف رضا  واصف مصباحی مدھوبنی بہار

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں