کھلاتی ہے مجھے ہر روز لقمہِ شیریں

کھلاتی ہے مجھے ہر روز لقمہِ شیریں

 

مری زمیں پہ اُبلتا ہے چشمہِ شیریں
سماعتوں میں ہمکتا ہے نغمہِ شیریں

ہے پیار ماں کا مثالِ قرارِ جاں لوگو!
کھلاتی ہے مجھے ہر روز لقمہِ شیریں

ہے ماں کی ذات میں خاموش بحرِ احسانی
وہ روز دیتی ہے بچوں کو بدلہِ شیریں

دبائے رکھتی ہے ہر آرزو تہِ دل میں
وہ پیش کرتی ہے بچوں کو کاسہِ شیریں

نظر کے سامنے ہر آن اس کا بچہ ہے
لہو پلاتی ہے دے کر کے آلہِ شیریں

چھپا ہے ذات میں اس کے جہانِ سوزِ دروں
شبِ فراق میں اٹھتا ہے نالہِ شیریں

وجود اس کا ہے احسن خدا کا رحمِ جلی
بڑھاتی رہتی ہے بچوں کا جذبہِ شیریں

توفیق احسن برکاتی


ہے کتنی میٹھی یہ ماں کی محبتوں کی شراب

مرے دل کے سبھی زخموں پہ وہ مرہم لگاتی ہے

وفا شناس نگاہوں کو پیار دیتا ہے

Share this on

آرکائیوز

متعلقہ اشاعت

This Post Has 3 Comments

جواب دیں