خدا کے فضل سے یہ جذبہ میری ذات میں ہے

خدا کے فضل سے یہ جذبہ میری ذات میں ہے
نبی کے نام پہ مرنا مِری حیات میں ہے

خدا نے تجھ کو بنایا ہے قاسمِ نعمت
سبھی کی جھولیاں بھرنا تری صفات میں ہے

اِدھر بھی چشمِ کرم کیجیے رسول اللّٰہ
کہ بندہ یہ بھی غموں میں ہے مشکلات میں ہے

خدا نے تم کو بنایا ہے بے مثال شہا!
تمہارا ثانی کہاں پوری کائنات میں ہے

” تضمین”
فلاح پا نہیں سکتا حضور کا دشمن
یہ بات برسوں سے میرےمشاہدات میں ہے

جو بارگاہِ شہِ دیں میں ہوگیا مقبول
وہ کاٸنات کی خوش بخت شخصیات میں ہے

میں کچھ نہیں ہوں مگر مجھ سے نعت لکھوائی
خدا گواہ ، یہ ان کی نوازشات میں ہے

قلم بھی رُکتا نہیں ہے تِرا مکرم اب
عجب حلاوتِ ایمانی شہ کی بات میں ہے

مکارم رضامکرم رضوی

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں