خدایا ابتدا تو ہے خدایا انتہا تو ہے

خدایا ابتدا تو ہے خدایا انتہا تو ہے
بہر سو جلوے ہیں تیرے مگر پھر بھی چھپا تو ہے

خدائی بن گئ کن سے خرد سے ماورا تو ہے
تری ہی کل خدائی ہے سبھی کا اک خدا تو ہے

توہی تو بندہ پرور ہے خدایے مصطفی تو ہے
معافی دے مجھے مولی اگر مجھ سے خفا تو ہے

زبان عجز کو مولی عطا کر حمد کے صیغے
سوالی ہیں فقط ہم معطئ حرف ثنا تو ہے

جہان رنگ و بو سے ہے تری وحدانیت روشن
مبرا مثل سے ہستی تری ہے واہ کیا تو ہے

نیاز و بند گی تیری متاع سرمدی میری
کسی سے کیا مجھے مطلب میرا تو مدعا تو ہے

کسے آخر پکاریں ہم تکیں کس کی طرف آخر
تو ہی مشکل کشا ہے سامع حرف دعا تو ہے

ترے کمزور بندوں پر جہان کفر ہنستا ہے
کریما کر کرم ہم پر سخی داتا بڑا تو ہے

کہے کیا حیدر عاصی تجھے ہے سب پتہ مولی
ہواکیا، ہوگا کیا، کیا ہورہاہے جانتا تو ہے

محمد رمضان حیدر قادری فردوسی
خانقاہ فردوسیہ جونکا شریف

Share this on

متعلقہ اشاعت

نشتر میرٹھی كا تعارف

نشتر میرٹھی كا تعارف نام: سرداری لال تخلص: نشتر میرٹھی سن ولادت: 1898ء جائے ولادت: میرٹھ، اتر پردیش، بھارت پنڈ سرداری لال نشتر میرٹھی کو

مزید پڑھیں

آتش كا تعارف

آتش كا تعارف نام: ڈاکٹر رمیش پرشاد گرگ تخلص: آتش تاریخ ولادت: 23 جولائی 1943 جائےولادت: بنارس، اترپردیش، بھارت ڈاکٹر رمیش پرساد گرگ آتش کے

مزید پڑھیں

جواب دیں