خماؔر بارہ بنکوی

خماؔر بارہ بنکوی

نام محمد حیدرخاں اور تخلص خمارؔ تھا۔ ۱۹؍ستمبر ۱۹۱۹ء کو بارہ بنکی (اودھ) میں پیدا ہوئے۔ اردو اور فارسی کی تعلیم گھر پر حاصل کی۔اس کے بعد انگریزی اسکول میں داخلہ لیا۔ انٹرمیڈیٹ میں تھے کہ ایک نہایت لطیف حادثے سے دوچار ہوگئے اور سلسلہ تعلیم ترک کردیا۔ تقریباً پندرہ سولہ برس کی عمر سے شعر موزوں کرنے لگے۔ ابتدا میں کچھ دنوں قرارؔ بارہ بنکوی کو کلام دکھایا، لیکن بعد میں اپنے ذوقؔ سلیم کو رہبر بنایا۔ ۱۹؍فروری ۱۹۹۹ء کو بارہ بنکی میں انتقال کرگئے۔ ان کا ترنم بہت اچھا تھا۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:
’حدیثِ دیگراں‘، ’آتِش تر‘، ’رقصِ مے‘۔
بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:103

✦•───┈┈┈┄┄╌╌╌┄┄┈┈┈───•✦

خمارؔ بارہ بنکوی کے منتخب اشعار

بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم
قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیئے

دعا یہ ہے نہ ہو ں گمراہ ہم سفر میرے
خمار ؔ میں نے تو اپنا سفر تمام کیا

اب ان حدود میں لایا ہے انتظار مجھے
وہ آ بھی جائیں تو آئے اعتبار مجھے

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی
جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی

دشمنوں سے پشیمان ہونا پڑا ہے
دوستوں کا خلوص آزمانے کے بعد

گزرے ہیں میکدے سے جو توبہ کے بعد ہم
کچھ دور عادتاً بھی قدم ڈگمگائے ہیں

مجھے تو ان کی عبادت پہ رحم آتا ہے
جبیں کے ساتھ جو سجدے میں دل جھکا نہ سکے

حد سے بڑھے جو علم تو ہے جہل دوستو
سب کچھ جو جانتے ہیں وہ کچھ جانتے نہیں

حیرت ہے تم کو دیکھ کے مسجد میں اے خمارؔ
کیا بات ہو گئی جو خدا یاد آ گیا

محبت کو سمجھنا ہے تو ناصح خود محبت کر
کنارے سے کبھی اندازۂ طوفاں نہیں ہوتا

نہ تو ہوش سے تعارف نہ جنوں سے آشنائی
یہ کہاں پہنچ گئے ہیں تری بزم سے نکل کے

اے موت انہیں بھلائے زمانے گزر گئے
آ جا کہ زہر کھائے زمانے گزر گئے

حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے
عشق کے مغفرت کی دعا کیجیے

جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں
کس اہتمام سے انہیں ہم یاد آئے ہیں

سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں
تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں

اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے
دو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھئے

کہیں شعر و نغمہ بن کے کہیں آنسوؤں میں ڈھل کے
وہ مجھے ملے تو لیکن کئی صورتیں بدل کے

کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیا
بڑے تپاک سے غم نے مجھے سلام کیا

ان مست مست آنکھوں میں آنسو ارے غضب
یہ عشق ہے تو قہرِ خدا چاہئے مجھے

کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیا
بڑے تپاک سے غم نے مجھے سلام کیا

ترے در سے اٹھ کر جدھر جاؤں میں
چلوں دو قدم اور ٹھہر جاؤں میں

صحرا کو بہت ناز ہے ویرانی پہ اپنی
واقف نہیں شاید مرے اجڑے ہوئے گھر سے

یہ وفا کی سخت راہیں یہ تمہارے پاؤں نازک
نہ لو انتقام مجھ سے مرے ساتھ ساتھ چل کے

مجھ کو شکستِ دل کا مزا یاد آ گیا
تم کیوں اداس ہو گئے کیا یاد آ گیا

خمارؔ بلا نوش کہ تو اور توبہ
تجھے زاہدوں کی نظر لگ گئی ہے

حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے
عشق کے مغفرت کی دعا کیجیے

وہ کون ہیں جو غم کا مزہ جانتے نہیں
بس دوسروں کے درد کو پہچانتے نہیں

آغازِ عاشقی کا مزا آپ جانئے
انجامِ عاشقی کا مزا ہم سے پوچھئے

چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں
نیا ہے زمانہ ، نئی روشنی ہے

اٹھو میکشو ۔۔ تعزیت کو چلیں
خمارؔ آج سے پارسا ہو گیا

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے

مانگیں گے اب دعا کہ اسے بھول جائیں ہم
لیکن جو وہ بوقتِ دعا یاد آ گیا

مے کدے سے نکل کر جناب خمارؔ
کعبہ و دیر میں خاک اڑاتے رہے

●•●┄─┅━━━★✰★━━━┅─●•●

خمارؔ بارہ بنکوی

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں