کفر لرزا ہے جب اک مسکان کی تقریر سے

قید کر سکتا نہیں ہے تو ہمیں زنجیر سے

خوف بھی کوئی نہیں ہم‌ کو تری تعزیر سے

جان سے بڑھ کر ہمیں اپنے وطن سے پیار ہے

با حیا ہوکر بڑھیں گے ہم یہاں توقیر سے

ہوگا کیا میداں میں گر سب بنتِ حوا آ گئیں 

کفر لرزا ہے جب اک مسکان کی تقریر سے

بیٹیوں بہنوں کو تو جو کر رہا ہے بے حجاب

چپہ چپہ گونجے گا اب نعرۂ تکبیر سے

ہم کو عزت دار ہونے کا ہے حق اسلام میں

کس کی ہمت ہے جو دیکھے پھر ہمیں تحقیر سے

  ظلم سے نہ آتشِ نفرت سے پھیلا ہے ادیب

 سر بلندی ہم‌ نے‌ پائی خُلق کی شمشیر سے

محمد ادیب رضا بدایونی

 

يه بھي پڑھيں:

یعنی مسکان تری رسمِ قیادت کو سلام

تو نے اک ہلچل مچادی نعرۂ تکبیر سے

بہت سے لوگ مجھ میں مر چکے ہیں

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں