لب پہ جاری ہو ہمیشہ اور ہر دَم السّلام

لب پہ جاری ہو ہمیشہ اور ہر دَم السّلام
جانِ عالَم، رُوحِ عالم ، کانِ عالَم السّلام

جن وانسان و ملائک کا وظیفہ ہے یہی
خالِقِ عالَم بھی بھیجے اُن پہ پیہم السّلام

دست بستہ ہر نبی پڑھتے رہے اُن پر درود
ذکرِ موسیٰ، فِکرِعیسیٰ ، وِردِ آدم السّلام

بھیجتے رہیے ہمیشہ اپنے آقا پر درود
ہر وظیفے کا ہے مرکز اور سنگم السّلام

ہر بَلا ہر رنج وغم ، دُکھ درد میں اِکسیر ہے
کتنا سُندر ہے تَرانہ، راگ، سرگم السّلام

غور سے سُن لیجیے عارف! مرا قولِ اَخیر
من چنیں خوشتر نہ دیدم مرہمِ غم السّلام

(لب پہ جاری ہو ہمیشہ اور ہر دَم السّلام)
(جانِ عالَم، رُوحِ عالم ، کانِ عالَم السّلام)

غیاث الدین احمد عارف مصباحی


 

 

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں