لفظ "شوق” پر کہا گیا دس منتخب شعر

لفظ "شوق” پر کہا گیا دس منتخب شعر

امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں
عشق جب تک واقف آداب غم ہوتا نہیں

کلیم عاجز

اے اجل شوق سے آجا ہم نے
سبز گنبد پہ جما لیں انکھیں
از ۔ اسید الحق محمد عاصم بدایونی

سجدۂ وصلت کا لطف بے بہا پانا ہے تو
عرصۂ فرقت کے زخم شوق کا سترہ کریں
فاتح چشتی مظفرپوری

دم توڑ دے نہ شوق کہیں انتظار میں
اب حاضری کا کوئی تو امکاں بنائیے
فاتح چشتی مظفرپوری

تازہ ہوا کے شوق میں اے پاسبانِ شہر
اتنے نہ در بناؤ کہ دیوار گر پڑے
جمال اختر صدف

پیش کرتا ہے بصد شوق محبت فارِح
آپ کر لیجیے منظور یہ "اوراق ثنا”
فارِح مظفرپوری

قدموں کے برابر جو نہ ہو پائے ابھی تک
جلتے ہیں بہت شوق سے شہرت پہ ہماری
ادہم گونڈوی

ہم نے جانا تھا لکھے گا تو کوئی حرف اے میرؔ
پر ترا نامہ تو اک شوق کا دفتر نکلا
میر تقی میر

کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن
شوق نے ہم کو بے حواس کیا
میر تقی میر

شوق روکے نہ رُکے پاؤں اُٹھائے نہ اُٹھے
کیسی مشکِل میں ہیں اﷲ تَمَنَّائی دوست
حضرت رضا بریلوی

اے شوقِ دل! یہ سجدہ گر اُن کو روا نہیں
اچھا! وہ سجدہ کیجئے کہ سر کو خبر نہ ہو
حضرت رضا بریلوی

ذرا بھی جس کے ذہن و فکر میں وجدان ہوتا ہے
اسے حاصل جہانِ شوق کا عرفان ہوتا ہے
محفوظ الرحمن عادل مئوی

شوق کو عازمِ سفر رکھیے
بےخبر بن کے سب خبر رکھیے

نکہت افتخار

کرنی پڑے گی پھر تو انھیں تیرگی سے جنگ
سورج کی طرح جن کو ابھرنے کا شوق ہے
اسماعیل شاداں

مرنے سے پہلے مجھ سے مرا رب رہے راضی
جنت میں جاکے کرلوں گا ہر شوق میں پورا
عرفان جاسرؔبھٹکل کرناٹک انڈیا

تنہائیوں کے شوق نے تنہائی چھین لی
دیدہ وری کے شوق نے بینائی چھین لی
سید انوار زین

بسترِ مرگ ہو اور پیشِ نظر روئے رسول
پھر میں کیوں شوق رکھوں دستِ مسیحائی کا
محمد ارشاد رضا

میں بھی جاؤں گا ایک دن طیبہ
شوق سر پر سوار رہتا ہے
حسنینؔ بلرامپوری

(لفظ "شوق” پر کہا گیا دس منتخب شعر)

Share this on

متعلقہ اشاعت

This Post Has 2 Comments

جواب دیں