لہولہو  ہیں فلسطین کےگلی کوچے

صفوں کی مثل بچھےہیں ہراک طرف لاشے
"لہولہو  ہیں فلسطین کےگلی کوچے”

فضا میں آہ وبکاکی صداٸیں گونجتی ہیں
نگاہیں مونس وغمخوار کو تلاشتی ہیں

جوان بوڑھےتشدد میں مارےجاتےہیں
نۓ گلاب بھی پیروں سے روندے جاتےہین

ہرایک سمت ہے خوف و ہراس کاعالم
کوٸی نہیں ہے جو مجروح پررکھے مرہم

ہوٸی ہے جبرو تشدد سے ہر نظر مغموم
ہےصبح وشام تبسم طلب لب مظلوم

ثیاب ارض فلسطیں ہیں خون سے رنگین
ہےاضطراب کاعالم کہیں نہیں تسکین

زمین قدس کا منظر ہے خونچکاں آقا
زباں میں تاب نہیں کیا کروں بیاں آقا

دعاہے امن کا سورج طلوع ہو پھر سے
وہ کارگاہ مسرت شروع ہو پھر سے

علی کے جیساکوٸی آے پھر علم بردار
جو قصر ظلم وستم آن میں کرےمسمار

تمھیں سے آس ہے قاٸم سدا ضعیفوں کی
حضور خیر ہو ہرگام پر غلاموں کی

حضور چشم عنایت کےخواستگارہیں ہم
پریشاں حال ہیں بے چین بےقرار ہیں ہم

یہ کیسادور ہے کیسی ہے یہ گھڑی واصف
ہےبیٹھی سوگ میں بانوے زندگی واصف

نوحہ کناں
واصف رضاواصف  مدھوبنی بہار

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں