عزم منزل ہے تو ہمراہ تھکن لے کے نہ چل

عزم منزل ہے تو ہمراہ تھکن لے کے نہ چل

ابرار کرتپوری

 

وسوسے دل میں نہ رکھ خوف رسن لے کے نہ چل
عزم منزل ہے تو ہمراہ تھکن لے کے نہ چل

راہ منزل میں بہر حال تبسم فرما
ہر قدم دکھ سہی ماتھے پہ شکن لے کے نہ چل

نور ہی نور سے وابستہ اگر رہنا ہے
سر پہ سورج کو اٹھا صرف کرن لے کے نہ چل

پہلے فولاد بنا جسم کو اپنے اے دوست
بارش سنگ میں شیشہ سا بدن لے کے نہ چل

آس انصاف کی منصف سے نہیں ہے تو نہ رکھ
ناامیدی کی مگر دل میں چبھن لے کے نہ چل

ابرار کرتپوری

 

Share this on

Share on facebook
Share on whatsapp
Share on twitter
Share on telegram
Share on email
Share on print

متعلقہ اشاعت

جواب دیں